ہوناور 23/ستمبر (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66کے توسیعی منصوبے میں ترمیم کرتے ہوئے ہوناور میں سڑک کی چوڑائی 45میٹر باقی نہ رکھنے اور فلائی اوور ختم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کے خلاف احتجاجی کمیٹی کی طرف سے گیروسوپا سرکل سے ہوناور کے شراوتی سرکل تک ایک عوامی ریالی نکالی گئی جو بعد میں جلسے میں تبدیل ہوگئی۔
عوامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلائی اوور احتجاجی کمیٹی کے صدرایم ایس سبرامنیا نے کہا کہ یہ احتجاج کسی حکومت یا پارٹی کے خلاف نہیں ہے، بلکہ طالب علموں، عمر رسیدہ افراد اور عوام کو درپیش مشکلات کو سامنے لانے کے لئے اس کا اہتمام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہامنصوبے میں 45میٹر کی چوڑائی اور فلائی اوور کا خاکہ تھا۔ اب اس سے ہاتھ اٹھالیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہوناور شہر کے سری دیوی ہاسپٹل کراس، شراوتی سرکل، چرچ کراس، کامتھ ہوٹل، بی ای او دفتر کراس، گیروسوپا سرکل،کرکی ناکہ وغیرہ پر، طلبہ، عمررسیدہ افراد،خواتین،پیدل چلنے والوں اور چھوٹی گاڑی کے مالکان کو بہت ہی دشواریاں پیش آئیں گی۔ لہٰذا مظاہرین کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ منصوبہ جس شکل میں پہلے پیش کیا گیا تھا اسی پر عمل کیا جائے اور ہوناور میں فلائی اوور کی تعمیر لازمی طور پر کی جائے۔
احتجاجی کمیٹی کے اعزازی صدر جے ٹی پائی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر کمٹہ کے رکن اسمبلی دینکر شیٹی اور بھٹکل رکن اسمبلی سنیل نائک سے بات چیت کرکے ان کے توسط سے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کے ساتھ ملاقات کی گئی ہے اور یہ مسئلہ ان کے علم میں لایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسمبلی اسپیکر وشویشوراہیگڈے کاگیری سے بھی رابطہ قائم کیا گیا ہے۔عوامی مفاد کے اس مسئلے پر جدوجہد کے لئے سب کا تعاون مل رہا ہے۔کسی کا بھی دباؤ نہ رہنے کے باوجود توسیع کے بنیادی خاکے میں تبدیلی کیے جانے کی بات حق معلومات کے تحت افسران سے معلوم کرلی گئی ہے۔پہلے سے طے شدہ نقشے میں کسی قسم کی تبدیلی کیے بغیر ہوناور شہر میں کھمبوں پر فلائی اوور تعمیر کرنا ہی عوامی مسائل کا واحد حل ہے۔
اعلان کردہ وقت کے مطابق شروع ہونے والی ریالی جب اپنے طے شدہ وقت پر ختم ہونے والی تھی اس وقت کمٹہ رکن اسمبلی دینکر شیٹی موقع پر پہنچ گئے انہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں کو بحسن و خوبی انجام تک لے جانا منتخب عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔اگر کوئی منصوبہ عوامی مفاد کے خلاف ثابت ہوتا ہے تو اسے درست کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔اور یہ ذمہ داری بھی عوامی نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔ہوناور میں فلائی اوور تعمیر کرنے سے کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں ہوتی ہے۔ اس میں حکومت کا بھی کوئی خسارا نہیں ہے۔اس لئے عوامی مسئلے کو حکومت کے سامنے رکھتے ہوئے اسے حل کرنے کی کوشش میں خود کروں گا۔میں مظاہرین کے حقوق کے لئے ہمیشہ ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں۔
مظاہرین نے اپنے مطالبے پر مشتمل ایک میمورنڈم تحصیلدار ویویک شینئی کی معرفت حکومت کوسونپا۔ تحصیلدار نے میمورنڈم قبول کرتے ہوئے اسے حکومت کو روانہ کرنے کا یقین دلایا۔ایک اندازے کے مطابق اس پرامن ریالی اور اجلاس میں 6ہزار سے زیادہ مظاہرین شریک تھے۔